Posts

ڈاکٹر وزیر آغا کون تھا ؟

 ڈاکٹر وزیر آغا وزیر کوٹ ضلع سرگودھا میں 18 مئی 1922 ء کو پیدا ہوئے ۔آپ کے آباؤاجداد کا تعلق ایران سے ہے آپ کے پردادا کاروبار کے سلسلے میں افغانستان آگئے ۔بعدازاں برطانوی دور حکومت میں لاہور اور پھر سرگودھا منتقل ہوگئے ۔ آپ نے 1943 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ۔اے اکنامکس کیا۔1956 میں " اردو ادب میں طنز ومزاح" کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا ۔جس پر پنجاب یونیورسٹی سے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی ۔ تصانیف تحقیق وتنقید ،اردو شاعری کا مزاج ،نظم جدید کی کروٹیں ،تنقید واحتساب ،تخلیقی عمل نئے مقالات ،نئے تناظر ،تصورات عشق وخرد ( اقبال کی نظر میں ) انشائیہ کے خدوخال ساختیات اور سائنس ،غالب کا ذوق تماشا ۔ شاعری : دن کا زردپہاڑ ،ادھی صدی کے سائے ،شام اور سائے ،نردبان ۔ انشائیہ: خیال پارے ،چوری سے یاری تک ،دوسرا کنارہ ،سمندر اگر میرے اندر گرے ،پگڑنڈی سے روڈ رولر تک ( انشائیوں کا کلیات ) ۔ خاکے شام دوستان آباد  ادارت 1940 میں ماہنامہ " ادبی دنیا " میں شریک ہوئے ۔ 1956 میں اپنا رسالہ اور اق جاری کیا جو تاحال شائع ہو رہا ہے  ۔

ساغر صدیقی نعت

 نہ ہوتا در محمد کا تو دیوانے کہاں جاتے خدا سے اپنے دل کی بات منوانے کہاں جاتے جنہیں عشق محمد نے کیا ادراک سے بالا  حقیقت ان تمناؤں کی سمجھانے کہاں جاتے خدا کا شکر ہے یہ حجرا اسود تک رسائی ہے  جنہیں کعبے سے نسبت ہے وہ بتخانے کہاں جاتے اگر آتی نہ خوشبوئے مدینہ میری آنکھوں سے  جو مرتے ہیں نہ جلتے ہیں وہ پروانے کہاں جاتے  سمٹ آئے مری آنکھوں میں حسن زندگی بن کر  شراب درد سے مخمور نذرانے کہاں جاتے چلو اچھا ہوا ہے نعت ساغر کام آئی ہے  غلامان نبی محشر میں پہچانے کہاں جاتے  

استعاره

 استعارہ جب کسی لفظ کو حقیقی معنوں کی بجائے غیر وضعی معنوں میں استعمال کریں اور حقیقی ومجازی معنوں میں تشبیہ کا علاقہ پایا جائے تو اسے استعارہ کہتے ہیں ۔ استعارہ میں ارکان تشبیہ کے نام بدل جاتے ہیں ۔اس لئے ان کو جاننا اور یاد رکھنا ضروری ہے ۔ مشبہ کو = مستعارلہ ،کہتے ہیں ، مشبہ بہ کو = مستعار منہ کہتے ہیں وجہ شبہ کو = وجہ جامع کہتے ہیں ۔ مستعار منہ کےلئے جو لفظ لایا جاتا ہے مستعار کہلاتا ہے ۔مثلا جب ہم شیر کا لفظ کسی بہادر آدمی کے لئے استعمال کرتے ہیں تو مردشجاع کی ذات مستعارلہ ہے ۔شیر مستعار منہ ہے ،شجاعت وجہ جامع ہے شجاع کا لفظ مستعار ہے ۔ جیسے مشبہ اور مشبہ بہ کو طرفین تشبیہ کہا جاتا ہے ۔اسی طرح مستعارلہ اور مستعار کو طرفین استعار کہتے ہیں ۔استعارہ میں مشبہ کی ذات کو عین مشبہ بہ بتایا جاتا ہے ( یا اس کے برعکس یعنی مشبہ بہ کو عین مشبہ ) اسلئے عموماً استعارہ میں مشبہ اور مشبہ بہ میں سے صرف ایک کا ذکر کرتے ہیں اور جو محذوف ہوتا ہے اس کے لوازم اور مناسب لائے جاتے ہیں تاکہ استعارہ مکمل ہو جائے ۔اسی لئے استعارہ کی اصلی خوبی یہ ہوتی ہے کہ طرفین استعار میں کامل قسم کی تشبیہ پائی جائے او...

تشبیہ

تشبیہ  تشبیہ کے معنی یہ ہیں کہ ایک چیز کسی خاص لحاظ سے کسی دوسری چیز کے مانند ظاہر کیا جائے ۔جیسے  کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا  تھا موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہوا     (   انیس )  یہاں اوس کے قطروں کو آب وتاب کی وجہ سے موتیوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔کسی تشبیہ میں پانچ چیزیں ہوتی ہیں ۔ مشبہ : وہ چیز جس کو تشبیہ دی جائے جیسے پہلی مثال میں اوس کے قطرے ۔ مشبہ بہ : وہ چیز جس سے تشبیہہ دی جائے ۔جیسے یہاں موتی ۔ حرف تشبیہ : وہ حرف ہے جو تشبیہ دینے کے لئے لایا جائے ۔جیسے مانند ،مثل ،چوں ،جیسا وغیرہ ( یہاں حرف تشبیہ محذوف ہے ) ۔ وجہ تشبیہ: وہ بات اور وہ معنی جو مشبہ اور مشبہ بہ میں مشترک ہوں ۔جیسے یہاں چمک دمک اور آب و تاب کہ یہ موتیوں میں بھی پائی جاتی ہے اور اوس کے قطروں میں بھی ( اس کو وجہ شبہ بھی کہتے ہیں )  غرض تشبیہ : وہ مقصد جس کےلئے کسی چیز کو تشبیہ دی جاتی ہے جیسے یہاں اوس کے قطروں کی  خوشنمائی اور دلفریبی ظاہر کرنے سے غرض ہے ۔( اسے غرض شبہ بھی کہتے ہیں ) ان پانچوں کو ارکان تشبیہ کہتے ہیں اور مشبہ اور مشبہ بہ طرفین تشبیہ ( یا اطراف...

ساغر صدیقی

Image
 ساغر صديقي اے حسن لالہ فام ! ذرا آنکھ تو ملا  خالی پڑے ہیں جام ! ذرا آنکھ تو ملا کہتے ہیں آنکھ آنکھ سے ملنا ہے بندگی  دنیا کے چھوڑ کام ! ذرا آنکھ تو ملا کیا وہ نہ آج آئیں گے تاروں کے ساتھ ساتھ تنہائیوں کی شام ! ذرا آنکھ تو ملا یہ جام , یہ سبو یہ تصور کی چاندنی  ساقی کہاں مدام ! ذرا آنکھ تو ملا ساقی مجھے بھی چاہیے اک جام آرزو کتنے لگیں گے دام ! ذرا آنکھ تو ملا پامال ہو نہ جائے ستاروں کی آبرو  اے میرے خوش خرام! ذرا آنکھ تو ملا ہیں راہ کہکشاں میں ازل سے کھڑے ہوئے  ساغر ترے غلام! ذرا آنکھ تو ملا 

کلام غالب

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا دل جگر تشنۂ فریاد آیا دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز پھر ترا وقت سفر یاد آیا سادگی ہائے تمنا،یعنی  پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا عذر واماندگی ،اے حسرت دل  نالہ کرتا تھا،جگر یاد آیا زندگی یوں ہی گزر ہی جاتی  کیوں ترا راہ گزر یاد آیا کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی ! گھر ترا خلد میں گر یاد آیا آہ ،وہ جرآت فریاد کہاں  دل سے تنگ آکے ،جگر یاد آیا پھر ترے کوچے کو جاتا ہے خیال دل گم گشتہ ،مگر یاد آیا کوئی ویرانی سی ویرانی ہے !  دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا میں نے مجنون پہ لڑکپن میں اسد  سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا 
                                                                   لنڈیکوتل                                                                   16.4.68۔                                             برادر عزیز! سلام مسنون ۔رئیس صاحب کے خطوط کے متعلق آپ کا مطالبہ روزبہ روز پکڑتا جا رہا ہے اس لئے بقیہ خطوط بھی روانہ کررہاہوں اور اب میرے پاس ان کا ایک خط بھی مظاہر باقی نہیں رہا ہوسکتا ہے کہ کتابوں کے اندر ایک آدھا رہ گیا ہو لیکن جہاں تک مجھے دستیاب ہوسکے بھیج رہا ہوں ۔ آپ کی دنیاداری مجھے پسند ہے کچھ نہ کچھ ادب کی خدمت تو کررہے ہیں اس لئے آپ دنیادار پہ...