Posts

افسانہ کیا ہوتا ہے ؟

 Fiction  افسانہ عام طور پر فرضی کہانی کو افسانہ کہا جاتا ہے لیکن ادبی اصطلاح میں افسانہ وہ مختصر کہانی یا فکری داستان ہے جس میں کسی ایک واقعہ اور کسی ایک کردار پر روشنی ڈالی گئی ہو اور جس کے پڑھنے میں آدھ گھنٹہ تک وقت لگے ۔افسانہ کہانی کی وہ مختصر شکل ہے جس کے لیے انگریزی میں short story کا نام استعمال ہوتا ہے یہ داستان اور ناول کی ارتقائی اور ترقی یافتہ صورت ہے ،افسانےکی جامع تعریف آسان نہیں کیونکہ اس کی بےشمار تعریفیں کی گئی ہیں ۔فنی لحاظ سے ایک افسانے کے لیے ضروری ہےکہ وہ وحدت تاثر کا حامل ہو ۔وحدت تاثر پیدا کرنے کے لیے ایک معیاری افسانے میں صرف ایک مقصد پر زور دیا جاتا ہے ۔اگر مقاصد ایک سے زیادہ ہوں تو افسانے میں بہت سی فنی خرابیاں پیدا ہو جاتی  ورنہ قاری افسانے میں دلچسپی محسوس نہیں کرتا ۔ اختصار افسانے کی بنیادی خوبی ہے بعض نقادوں نے کہا ہے کہ مختصر افسانہ وہ ہے جو نصف گھنٹے میں پڑھا جاسکے ۔بعض کا خیال ہے کہ جو کہانی ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکے ،اسے افسانہ کہ سکتے ہیں ۔درحقیقت افسانے پر وقت کی قید نہیں لگائی جاسکتی ۔البتہ افسانہ نگار کو غیر ضروری تفصیلات سے اجتناب ک...

ڈرامہ کیا ہوتا ہے ؟

 ڈرامہ  ڈرامے کا تصور قدیم یونان سے وابستہ ہے ،ڈراما کا لفظ یونانی زبان سے بنا ہے ،جس کے معنی تمثیل ،ٹانگ یا سوانگ کے ہیں ۔ان سب الفاظ کا مفہوم ہے " کچھ کرکے دکھانا " ۔ڈرامے سے انسان کی دلچسپی فطری ہے۔ ڈرامے کی جامع تعریف کرنا مشکل ہے ۔ایک مغربی ناقد ھڈسن کے الفاظ میں ڈراما ایک نقالی ہے جو حرکت ( عمل )اور تقریر یعنی مکالمہ کے وسیلے سے کی جاتی ہے ۔اردو میں ڈرامے کے ایک ممتاز نقاد ڈاکٹر محمد اسلم قریشی کا خیال ہے کہ ڈراما اسٹیج پر فطرت کی نقالی کا ایک ایسا فن ہے جس میں اداکاروں کے ذریعے زندگی کے غیر معمولی اور غیر متوقع حالات کے عمل میں قوت ارادی کا مظاہرہ تماشائیوں کے روبرو ایک معین وقت اور مخصوص انداز میں کیا جاتاہے ۔مختصر یو سمجھے کہ ڈراما وہ کہانی ہے جو مختلف کردار اپنی گفتگو اور اپنے عمل کے ذریعے اسٹیج پر پیش کرتے ہیں ۔ ڈرامے میں اسٹیج بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔اسٹیج کے بغیر کوئی ڈرامہ پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ڈرامہ لکھتے ہوئے اسٹیج کی ضرورتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ،اسٹیج کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے اچھا ڈرامہ لکھنا ممکن نہیں ۔خیال رہے کہ اسٹیج ،اصل ڈرامے کا حصہ نہیں ہوتا مگر ڈر...

ناول کیا ہوتا ہے ؟

 ناول (novel) اطالوی زبان کا لفظ ہے جو انگریزی کے توسط سے اردو میں رائج ہوا ۔اس کے معنی ہیں " انوکھا ،نرالا اور عجیب " اصطلاح میں وہ قصہ یا کہانی ہے ،جس کا موضوع انسانی زندگی ہو اور ۔ناول نگار زندگی کے مختلف پہلوؤں کا مکمل اور گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد ایک خاص سلیقے اور ترتیب کے ساتھ اپنے تجربات و مشاہدات کو کہانی کی شکل میں پیش کردے ۔ناول میں حقیقت نگاری بنیادی چیز ہے ۔فرضی ،خیالی اور مافوق الفطرت باتوں سے اجتناب کیا جاتا ہے ۔دراصل ناول داستان کی ارتقائی شکل ہے ۔ فنی اعتبار سے مندرجہ ذیل عناصر یا لوازم ناول میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ 1 کہانی : ناول کے لیے بنیادی چیز کہانی ہے قصے کے بغیر ناول ،ناول کہلانے کے مستحق نہیں ۔ 2 پلاٹ : واقعات کی منطقی ترتیب کو پلاٹ کہتے ہے ۔ناول کی عمدگی کا انحصار بڑی حد تک پلاٹ پرہی ہوتا ہے ۔پلاٹ گٹھا ہوا ہی ہی ہونا چاہیے ۔ 3 کردار : کوئی بھی کہانی کرداروں کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی ۔ناول معاشرے کی عکاسی کرتا ہے ۔اس لیے اس میں ہر طرح کے کرداروں کی موجودگی لازمی ہے ان کے افعال واعمال اور عمل وردعمل سے ہی ناول کی تشکیل ہوگی ۔ایک یا دو کردار نسبتا ا...

داستان کیا ہوتا ہے ؟

 داستان کہنے کی چیز کی کو کہانی کہتے ہیں ۔قصہ کے معنی بھی کہنا اور بیان کرنا کے ہیں ۔داستان کہانی کی سب سے اولین اور قدیم قسم ہے۔اصطلاح میں داستان وہ قصہ کہانی ہے جس کی بنیاد تخیل ،رومان اور مافوق الفطرت عناصر پر ہو ۔ کہانی کی قسم ہونے کے ناطے سے داستان ،لکھنے اور پڑھنے سے زیادہ کہنے اور سننے کی چیز ہے اور مافی الضمیر کا فوری اور جلد اظہار لکھنے سے زیادہ کہنے میں ہوتا ہے ۔شاید اسی لیے شررنے داستان کو فی البدہیہ تصنیف کہا ہے ۔داستان گو کا اندازہ براہ راست خطاب کا ہوتا ہے ۔مثلا وہ ہمیشہ سامعین کو " لو" تو ' وغیرہ کہہ کر مخاطب کرتا ہے ۔ ایک معیاری داستان بالعموم مندرجہ اجزا سے ترکیب پائی ہے ۔ 1  پلاٹ ہر داستان کی بنیاد کسی نہ کسی پلاٹ پر رکھی جاتی ہے اس کے بغیر داستان کا تصور بے معنی ہے ۔اردو داستانوں کے پلاٹ میں تنوع کی کمی ہوتی ہے بالعموم تمام داستانوں کے ایک جیسے پلاٹ ہوتے ہیں ۔ 2 تخیل اور رومان : ہر داستان گو سامعین کو ایک ایسی دنیائے تخیلات کی سیر کراتا ہے جو ان کےلیے ان دیکھی اور بالکل اجنبی ہوتی ہے ۔اس رومانی اور خیالی دنیا کی ہر شے انسان اور حیوان ،نباتات ،اور جمادات...

سانیٹ کیا ہوتا ہے ؟

 سانيٹ (   sonnet) سانیٹ دور جدید کی پیداوار ہے۔اسے نظم کی ایک شکل کہ سکتے ہیں۔ سانیٹ ایک طرح کی مقفی نظم ہے جس میں کل چودہ مصرعے ہوتے ہیں ۔اس میں قافیے ایک مقررہ ترتیب سے لائے جاتے ہیں ۔سانیٹ کے دو حصے ہوتے ہیں ۔پہلا مصرعہ آٹھ مصرعوں پر اور دوسرا چھ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔سانیٹ میں کسی خیال یاجذبے کو پیش کیا جاتاہے ۔سانیٹ کسی بھی بحر اور وزن میں لکھی جاسکتی ہے ۔ دراصل سانیٹ انگریزی شاعری کی ایک قسم ہے ۔فنی لحاظ سے سائنٹ ایک مشکل صنف ہے ۔قافیوں کی خاص ترتیب کے ساتھ انتخاب الفاظ ،اختصار اور تسلسل خیال اور بیان میں ارتقاء کا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔اردو میں ن ۔م راشد ،اخترشیرانی ،اور بعض دوسرے جدید شعرا نے سانیٹ کو رواج دینے کی کوشش کی ۔مگر یہ صنف اردو میں فروغ نہ پاسکی ۔ساینٹ کی ایک مثال ملاحظہ ہے بادل  چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابر  آغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب ورنگ  میرے لیے ہے ان کی گرج میں سرود چنگ  پیغام انسباط ہے مجھ کو صدائے ابر  اٹھی ہے ہلکے ہلکے سروں نوائے ابر  اور قطر ہائے آب بجاتے ہیں جلترنگ  گہرائیوں میں روح کی جاگی ہے ہرا...

ساغر صديقي

 صحن کعبہ بھی ہے تو صنم خانے بھی  دل کی دنیا میں گلستان بھی ہیں ویرانے بھی  لوگ کہتے ہیں اجارہ ہے ترے جلوؤں پر  اتنے ارزاں تو نہیں ہیں ترے دیوانے بھی  آتش عشق میں پتھر بھی پگھل جاتے ہیں  مجرم سوز وفا شمع بھی پروانے بھی  کچھ فسانوں میں حقیقت کی جھلک ہوتی ہے  کچھ حقیقت سے بنا لیتے ہیں افسانے بھی  میرے اشعار ہیں تصور تمنا ساغر ان کی آغوش میں ہیں درد کے افسانے بھی               انتخاب:کلیات ساغر صدیقی 

آزاد نظم کیا ہوتا ہے ؟

 آزاد نظم بے قافیہ نظم میں مصرعے یکساں ہوتے ہیں مگر آزاد نظم میں مصرعوں کا برابر ہونا ضروری نہیں ،کچھ عرصے بعد انگریزی کی آزاد نظم کی طرز پر اردو میں بھی ایسی نظمیں لکھی جانے لگیں ۔ آزاد نظم کی بنیاد ایک ہی بحر پر ہوتی ہے ،مگر بحر کے ارکان کی تقسیم شاعر کی صوابدید پر ہوتی ہے ،بعض اوقات ایک رکن دو مصرعوں میں منقسم ہو جاتا ہے کوئی چھوٹا اور بڑا ۔ازاد نظم میں بھی ہییت کے اعتبار سے مختلف تجربات کیے گئے ہیں ۔بعض شعرا آہنگ اور صوتی تاثر کا خاص خیال رکھتے ہیں اور کبھی نظم میں قافیے بھی لاتے ہیں۔ ن ۔م راشید اور تصدق حسین خالد کو اردو میں آزاد نظم کا بانی کہا جاتا ہے میراجی ،سردار جعفری ،فیض ،مصطفی ،مختار صدیقی ،قیوم نظر ،احمد ندیم قاسمی ،مجید امجد وزیر آغا اور دیگر نے بے شمار شعرا نے آزاد نظمیں لکھی ہیں ۔ بعض شعرا کی آزاد نظموں میں ابہام اور معنوی پیچیدگی پائی جاتی ہے ،مگر ابہام کا رجحان ایک وقتی ابال تھا ۔دورحاضر میں بڑی خوبصورت آزاد نظمیں لکھی جارہی ہیں ۔نظم گو شاعروں کے چند مزید نام یہ ہیں عزیز حامد مدنی ،ظہور نظر ،وحید اختر ،غلام جیلانی ،اختر حسین جعفری حفیظ صدیقی وغیرہ آزاد نظم کی مثا...