Posts

 تبصره: *خوبونه*  ليکوال: *صدام حسين تنها اپريدے*  څه موده مخکښې په ډبګری کښې نياز ادبی سنګر د پرويش شاهين صاحب په اعزاز کښې د پروګرام تابيا کړے وه نو د ناچيز هم سره د يوه ملګري وراغلی وه نو هلته ورته ٫ سجده په مېکده ٫ د محترمۍ په لاسونو ډالی شوي وه نو واپسی کښې می چې کتاب وکتلو نو يوه جمله می پری وليدله چې زما د زړه دنيا کښې ئې د غم نه ډک طوفان راوچت کړو نو هم هلته می د ځان سره د خبره زمزمه کړه چې په دي کتاب به ليکل ضرور کوم نو د اوس مي کتاب ولوستلو اود څو کرښو ليکلو جرت کوم زمونږ پښتانه خور چې د يوه اديب په کور کښې ئي سترګی غړولې دي پښتو ادب ته ئي د دي شعري مجموعی نه مخکښې هم سپيزلے جذبے ،زنزيرله شړنګ ورکووم ،او ورندۀ وچوبے په نوم کتابونه ورکړي دي او دئي نوی شعري مجموعه ( سجده په ميکده)ئې د اکتوبر په مياشت کال 2022کښې چاپ کړے ده نو زه غواړم چې په تسلسل سره په کتاب باندي خبره وکړم نو ورځم په حمد باندي نو د خبره لکه د نمر ځلنده ده چې چې حمد او نعت ليکل يو مشکل کار دي او بيا خاص توګه په تول پوره ليکل خو زمونږ غوندي کمزرو خلقو کار نه دي خو زمونږ پښتانۍ خور په قلم دي برکت...

جماعت نہم کے بچوں کے لیے اردو ایم سی کیوز mcqs

  جماعت نہم 1   سبق "اخلاق نبوی " ص کا مصنف کون ہے الف مولانا شبلی نعمانی ب سر سید احمد خان  ج محمد حسین آزاد  د میر تقی میر 2 بہادر شاہ ظفر کے والد کا نام کیا تھا الف بہادر شاہ ثانی ب اکبر شاہ ثانی  ج لعل شاہ ثانی  د احمد شاہ ثانی 3 " ندوۃ العلماء " کس مصنف نے قائم کیا تھا الف سر سید احمد خان  ب  الطاف حسین حالی  ج  مولانا شبلی نعمانی  د مولوی نذیر احمد 4  مرزا اسداللہ خان غالب کہا پیدا ہوئے . الف دہلی  ب کلکتہ   ج  لاہور د  آگرہ 5 مولانا شبلی نعمانی کس سن میں وفات پائی . الف   1914  ب 1915  ج 1916  د 1917 6 کس شاعر کو مشکل پسند شاعر کہا جاتا ہے. الف میر تقی میر   ب  اسداللہ خان غالب  ج حسرت موہانی د الطاف حسین حالی 7 خواجہ الطاف حسین حالی کس سن میں پیدا ہوئے . الف 1835    ب 1836  ج 1837  د  1838 8 کس شاعر کو دبستان لکھنو کا نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے . الف بہادر شاہ ظفر  ب سرسید احمد خان  ج میر تقی ...

ملی شهيد

 ملی شهيد   خوشحال بابا څومره ښه وئيلي    مړۀ هغه چې نۀ ئې نوم نۀ یې نښان وي. تل تر تله پۀ ښۀ نوم پائي ښاغلي. دا ده خداي پاک نظام دے چې بعضي خلق ظاهري توګه باندې د خلقو د سترګو نه پناه کړي خو د خلقو په زړونو کښې ئې د تل د پاره ژوندي وساتي په دې خلقو کښې يو ښاغلے حضرت نعيم ګيلامن پښتين هم دے. ګيلامن پښتين چې د شمالي وزیرستان اوسيدونکے دے او خداي پاک ورته د شعر وئېلو او ليکلو طاقت ورکړے دے او داسې طاقت ئې ورکړے چې په ډېر کمو شاعرانو کښې مونږ ته په نظر راځي. پښتو ادب ته ئې دې نه مخکښې هم شعري مجموعه ورکړے دے او دا ئې اوس بله شعري مجموعه ″له تاسو دومره ګيلامن يمه چې حد نه لري″ بازار ته راغلې ده دغه شعري مجموعه چې يو سل درې مخه لري او د راټولولو يې زيار اجمل خټک يوسفزي کړې او يو لويه سريزه ئې په هم ليکلې ده دغه کتاب بنيادي توګه د غزلونو، نظمونو او ټپيزو باندې مشتمل دے. او په هر بيت کښې ئې د محکومې جنګ وهلې پښتونخوا په يو نه يو شکل کښې تصوير دنيا ته ښودلې دے چې پښتنو سره کومه لوبه روانه ده، دوي د کومو مرحلو نه تېريږي او بيا په خاصه توګه ړنګ بنګ وزيرستان خلق د کومو حالاتو س...

منظور پشتیں کون ہے ؟

پیدائش..... . 25 اکتوبر 1994...... عمر 28 اور 29 سال کی درمیان.... جائے پیدائش.... پاکستان بلکہ شاید ایشیا  کی پسماندہ ترین، بدقسمت جنگ زدہ علاقوں میں سے ایک "سروکئی"، وزیرستان... والد عبدالودود صاحب ایک معمولی سرکاری سکول ٹیچر ... یہ آج دنیا کے سب سے زیادہ مشہور و   مقبول ہیومن رائٹس علمبردار منظور پشتون کی تاریخی و علاقائی محل وقوع ہے..... سفر زندگی life trajectory... سولہ سترہ سال عمر تک  چار دفعہ  ارمی و طالبان کی نوراکشتی میں نقل مکانی و پناہ گزینی پر مجبور ہوتا رہا. وزیرستان کے کاٹتے ہوئے سردی میں غریب ماں باپ اور سات بہن بھائیوں کے ساتھ کئی کئی راتیں خالی پیٹ ڈی آئی خان اور بنوں کے پناگزین کیمپوں تک کبھی پیدل، کبھی خستہ حال فلائنگ کوچوں، ڈاٹسنوں اور منی ٹرکوں کا سفر کرتارہا. اسی در بدری اور بے خانمانی میں بنوں، کرک اور ڈی ائی خان میں تعلیم حاصل کی..... اور ڈی وی ایم کی ڈگری لی. دو ہزار نو میں جبری نقل مکانی میں ڈی آئی خان آرہا تھا. چیک پوسٹ پر ملٹری والے چند دوسرے نقل مکانی کرنے والے پشتون  عورتوں سے بدسلوکی کر رپے تھے...... منظور نے احتجاج کی..... م...

عدم تشدد کیا ہے ؟

 عدم تشدد  خدائی خدمتگاروں کی سب سے نمایاں خصوصیات یہ تھی کہ انھوں نے عدم تشدد کے اصولوں کو نہ صرف اپنا لیا تھا بلکہ بہت سختی سے ان پر عمل پیرا بھی تھے ۔اس تحریک میں شامل رضا کاروں کو تشدد کرنے اور ہتھیار رکھنے سے گریز کی تربیت دی جاتی تھی ۔تحمل اور برداشت پر بہت زور دیا جاتا تھا ۔انہیں کہا جاتا تھا کہ اگر ان کی تذلیل بھی ہو رہی ہو تب بھی انہیں انتقام سے گریز کرنا چاہیے ۔اس ضمن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی مکی زندگی ان کے سامنے بطور مثال پیش کی جاتی تھی جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دنوں میں کفار مکہ کے تمام تر مظالم نہایت صبر اور تحمل کے ساتھ برداشت کئے تھے ۔انہیں یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کے پاس انتقام کا موقع موجود تھا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبھی مفتوحین کو معاف فرما دیا تھا ۔   دیگر تمام قبائلی معاشروں کی طرح پختون معاشرہ بھی اپنے اندرونی اختلافات اور تشدد کی وجہ سے بدنام تھا ۔خان عبدالولی خان کی بنیادی توجہ اس جانب تھی کہ پختونوں کو خاص طور پر " تربورولی " کی بنیاد پر جاری رکھی جانے وال...
 فصاحت و بلاغت :  جو کلام زبان کے روزمرہ کے مطابق ہو ۔تنافر حروف اور غریب وناموس الفاظ سے پاک ہو ۔جس میں لغت اور نحو کے قواعد سے انحراف نہ ہو اور جس میں تعقید یا کوئی دوسرا عیب نہ پایا جائے فصیح کہلاتا ہے اور کلام کے اس وصف کو فصاحت کہتے ہیں ۔ موسیقی کانوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے ،لیکن بھدی اور بے اصول موسیقی سامعہ کے لیے بار ہو جاتی ہے ۔اسی طرح صرف متناسب الفاظ کا استعمال اور کلام میں ان کی ترتیب فصاحت پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ فصاحت کا تعلق زیادہ تر الفاظ سے ہے اور معنی سے کم ہے ۔ہوسکتا ہے کہ اچھے معانی ہوں مگر بیان میں فصاحت نہ ہو ۔اس صورت میں کلام کا اثر بہت کم ہو جاتا ہے بلکہ بعض حالات میں ذوق سلیم اس کو قبول نہیں کرتا مثلا  آج جس علم وہنر سے ہے چراغاں بزم قوم  ہم نے بنیاد اس کی دی تھی پشیتر دنیا میں ڈال  حالی  دوسرے مصرعے میں بھدی قسم کی تعقید ہے ۔اس لئے یہ شعر فصیح نہیں کہا جاسکتا ۔حالانکہ مضمون کے لحاظ سے ایک اچھی بات کہی گئی ہے ۔ الفاظ کی اچھی ترتیب ،آہنگ کا توازن اور بندش کا حسن فصاحت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے ۔اس کو سمجھنے...

مکتوب نویسی کیا ہے

 مکتوب نویسی  ماضی الضمیر کے اظہار کے مختلف ذریعے اور طریقے ہیں۔ان میں سے ایک خط نویسی ہے یہ بنیادی طور پر بات چیت کا بدل ہے خط کو نصف ملاقات کہا جاتا ہے ۔یہ گویا تحریری گفتگو کا دوسرا نام ہے ۔خط میں لکھنے والے کی شخصیت بول رہی ہوتی ہے ۔چنانچہ خط اس طرح لکھا جائے جیسے مکتوب الیہ سامنے بیٹھا ہے ۔خط لکھنا ایک فن ہے ۔سیکھنے اور مشق کرنے سے اس فن میں مہارت حاصل کی جاسکتی ہے ۔ڈاکٹر سید عبد اللہ لکھتے ہیں ۔" خط بڑا ہی نازک فن ہے ۔یہ کاریگری بھی ہے اور آئینہ سازی بھی ۔یہ مختصر اور محدود بھی ہے اور وسیع وبے کراں بھی ۔یہ حد سے زیادہ شخصی بھی ہے مگر اس کے باوجود آفاقی اور اجتماعی بھی ۔اس میں دانش بھی ہے اور بینش بھی ۔یہ بظاہر کچھ بھی نہیں مگر اس کا ہر ورق پھر بھی دفتر ہے معرفت کردگار اور معرفت انسان دونوں کا ۔یہ لکھنے والے کےلیے محض عرض سخن ہے مگر پڑھنے والے کے لیے گنجینہ فن بھی ہو سکتا ہے ۔غرض خط ایک جہاں راز ہے ۔جس کے راز اگر سر بستہ رہیں تو سینوں کو گہر ہائے معنی دفینے بنا دیں اور اگر آشکار ہو جائیں جو جذبے کی ساری دنیا مشک زار بن جائے ۔ اچھے خط کی خصوصیات 1 سادگی اور برجستگی : سادگی...

امیر مینائی کون تھا ؟

 امیر مینائی نام اور تخلص امیر تھا ۔سلسلہ نسب آپ کا شاہ مینا تک پہنچتا ہے اسی تعلق سے مینائی کہلاتے ہیں ۔والد کا نام کرم محمد مینائی تھا۔امیر لکھنو میں پیدا ہوا۔ابتدائی تعلیم بھی والد کی نگرانی میں ہوئی ۔تعلیم کی بعض منزلیں فرنگی محل میں طے ہوئیں اور یہیں سے شعر وشاعری کا شوق پیدا ہوا ۔ شاعری شروع کی تو اسیر جو اس وقت واجد علی شاہ کے استاد تھے ان کے شاگرد بنے ۔اپنے استاد اسیر کی بدولت امیر مینائی کی رسائی واجد علی شاہ کے دربار تک ہوئی ۔موزونی طبیعت اور علمی استعداد کی بدولت بہت جلد شعر گوئی میں کمال حاصل کرلیا اور اپنے استاد کے لیے باعث فخر ہوگئے ۔ 1857 کے ہنگامے کے بعد امیر مینائی کو بھی لکھنو سے نکلنا پڑا ۔لکھنو سے نکلنے کے بعد کاکوری چلے گئے ،جہاں ان کی ملاقات محسن کاکوری سے ہوئی ۔محسن کاکوری کی صحبت کے اثر سے امیر مینائی نے نعت گوئی شروع کی ۔1857 کا ہنگامہ جب ختم ہوا تو ان کے استاد مظفر علی اسیر کی تحریک پر نواب یوسف علی ناظم رام پور نے ان کو رام بلا لیا ۔پھر امیر ،نواب یوسف خان کی ملازمت میں داخل ہوگئے ۔نواب یوسف علی خاں کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خان کے زمانے میں ان کا اعز...

صنائع معنوی اور صنائع لفظی کیا ہے ؟

 صنائع معنوی 1 تضاد: کلام میں دو ایسے لفظ جمع کریں ۔جن میں ایک لفظ کے معنی دوسرے کے معنی کی ضد ہوں ۔جیسے شب وروز ۔آب و آئش ۔ 2 تدبیج: کسی کلام میں مختلف رنگ بیان کئے جائیں ( عموماً یہ ذکر بطور کنایہ کے ہوتا ہے ۔اس لئے معنوں میں خاص حسن پیدا ہو جاتا ہے ۔جیسے  یاں کے سفید وسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سواتنا ہے  رات کو رو رو صبح کیا اور دن کو جوں جوں توں شام کیا 3 مراعات النظیر: کلام میں چند ایسی چیزوں کا ذکر کرنا جن میں باہم کسی قسم کی مناسبت ہو لیکن یہ مناسبت تضاد کی نہ ہو  جیسے باغ کے ساتھ گل ،خیابان ،سنبل انار وغیرہ کا ذکر آئے ۔اس صنعت کا دوسرا نام تناسب ہے ۔ صنائع لفظی 1 تجنیس: کلام میں دو ایسے لفظ لانا جو تلفظ میں مشابہ ہوں مگر معنوں میں مختلف ہوں ۔اس کی کئی قسمیں ہیں جن میں زیادہ ضروری یہ ہیں ۔ 2 تجنیس تام : کلام میں دو ایسے لفظ لانا جو لکھنے اور پڑھنے میں یکساں ہوں لیکن معنی مختلف رکھتے ہوں ۔جیسء آہنگ کا لفظ کسی عبارت یا شعر میں دو بار آئے ۔ایک جگہ آواز کے معنی ہوں اور دوسری جگہ ارادہ کے یا مثلا  کہاں دل نے مرے دیکھی جو وہ مانگ  کہ ہے یہ رات آدھی کچھ دعا م...

کنایہ

 کنایہ  اگر کسی لفظ کو استعمال کرکے اس کے لازم معنی مراد لئے جائیں لیکن وہاں اس کے حقیقی معنی سمجھنے بھی جائز ہوں تو اسے کنایہ کہتے ہیں ۔جیسے  سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پراے طرف کلاہ  مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھپنے ترا لمبر سہرا  سر پہ چڑھنا سے اس کے لازم معنی یعنی گستاخ ہونا اور حقیقی معنی ٹوپی سر پر رکھنا دونوں مراد لئے جاسکتے ہیں۔ کنایہ کی قسمیں یہ ہیں ۔ 1 کنایہ بعید : وہ ہے جو جلدی ذہن میں آجائے۔اس میں کوئی ایسی صفت لائی جاتی ہے ۔جس سے موصوف آسانی سے ذہن میں آجاتا ہے۔جیسے سفید ریش کہہ پیری سے کنایہ کرنا ۔  لیکن اگر کئی صفتیں لائی جانیں جن کے جمع کے جمع کرنے سے موصوف ذہن میں آئے تو اسے کنا یہ بعید کہتے ہیں جیسے   ساقی وہ دے ہمیں کہ ہوں جس کے سبب بہم   محفل میں آب و آتش و خور شید ایک جا   آب و آتش و خورشید کے مجموعی اوصاف یکجا شراب میں پائے جاتے ہیں اور اسی سے کنایہ کیا گیا ہے   ۔کنایہ سے کسی امر کا اثبات یا نفی مطلوب ہو ۔جیسے دونوں ایک سانچے میں ڈھلے ہیں ۔  یہ بات کہہ کر مطلب لیا جائے کہ وہ دونوں ایک جیسے ہیں۔(نفی )...

گیت

گیت گانے کی چیز کو کہتے ہیں ۔اس کا موسیقی سے گہرا تعلق ہے ۔اس لیے گیت میں سرتال کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔اصطلاح میں گیت وہ صنف شعر ہے جس میں ایک عورت ،مرد کو مخاطب کرکے اظہار محبت کرتی ہے ۔گیت میں جذبات واحساسات خصوصا ہجر اور فراق کی کیفیت بڑے والہانہ انداز میں بیان کی جاتی ہے ۔بعض گیتوں میں محبت کا اظہار مرد کی طرف سے بھی ہوتا ہے مگر گیت کا بنیادی مزاج یہی ہے کہ وہ محبت میں مبتلا ایک عورت کے دل کی پکار ہے ۔ اردو گیت کی بنیاد ہندی گیت پر ہے۔ لہذا اس کی فارم اور زبان وبیان پر ہندی گیتوں کا گہرا اثر ہے ۔اردو گیت میں بھی ہندی کے الفاظ ،خالص ہندوستانی تلمیحات اور مقامی موسموں ،درختوں اور پھلوں وغیرہ کے نام بکثرت استعمال ہوتے ہیں ۔گیت کا لہجہ نسائی اور دھیما اور الفاظ نرم اور سبک ہوتے ہیں ۔گیت کا مجموعی مزاج نسوانی اور مقامی ہے۔گیت کی کوئی خاص ہیئت مقرر نہیں ۔ امیر خسرو کے بعض اشعار میں اردو گیت کی اولین جھلک نظر آتی ہے ۔دکنی شعرا میں محمد قلی قطب شاہ ،وجہی ،غواصی ،میراں شاہ ہاشمی کی شاعری میں اردو گیت کے ابتدائی نمونے ملتے ہیں کیونکہ ان کا لہجہ نسوانی ہے ،زبان ہندی ہے اور اظہار محبت عورت ک...

مجازی مرسل

 مجاز مرسل  جب کسی لفظ کو مجازی معنی یعنی غیر وضعی معنی میں استعمال کریں اور حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کےسوا کوئی اور علاقہ پایا جائے تو اسے مجاز مرسل کہتے ہیں ۔مجاز مرسل کے یہ علاقے کئی طرح کے ہوتے ہیں ۔ سبب کا ذکر کریں اور مسبب مراد لیں جیسے شاہ جہان نےتاج محل بنایا ۔ شاہ جہان تعمیر کا سبب تھا ۔ورنہ عمارت راج مزدوروں نے بنائی تھی ۔    پانی تھا آگ وگرمی روز حساب تھی    ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی  آگ سبب ہے گرمی کا ۔سبب کہہ کر مسبب مراد لیا ہے ۔    ساقیادے چک اب آتش رنگ   گرم وسردزمانہ سے ہوں یہ تنگ    سرد و گرم سے مراد انقلاب ہے ۔مسبب بول کر سبب مراد لیا ہے ۔کل بجائے جزو کے استعمال کرنا جیسے " خالد قلعہ میں رہتا ہے ". حالانکہ خالد کا مکان قلعہ کے ایک گوشے میں ہے ۔وہ سارے قلعہ میں نہیں رہتا ۔    

مکتوب نگاری کیا ہے

                                                                         مکتوب ہم ایک شخص سے کوئی بات چاہیں اور وہ ہمارے سامنے موجود نہ ہو تو اپنی بات اور گفتگو اسے لکھ بھیجنا ۔مکتوب نگاری یا خط نویسی کہلائے گا ۔۔مولوی عبد الحق صاحب کے الفاظ میں خط "دلی خیالی وجذبات کا روزنامچہ اور اسرارِ حیات کا صحیفہ ہے ". مکتوب نویسی ادب کی قدیم ترین شکل ہے ۔خط کو بالعموم" نصف ملاقات" کا نام بھی دیا جاتا ہے ،گویا خط ،بالمشافہ ملاقات کی کمی کو ایک حد تک پورا کرتا ہے ۔لیکن بعض اوقات خط میں وہ باتیں بھی لکھ دی جاتی ہیں جن کا اظہار منہ پر مشکل ہوتا ہے ۔ایسی صورت میں خط کی اہمیت بالمشافہ ملاقات سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ یوں تو خطوط نویسی کی متعدد قسمیں ہیں ۔مثلا نجی ،کاروباری ،اور سرکاری وغیرہ لیکن اس وقت خطوط نویسی محض بحیثیت ایک صنف نثر کے پیش نظر ہے ۔ایسے خطوط بالعموم ادبی اور علمی نوعیت کے ہوتے ہیں اگر ان میں شخصی یا ذات...
 نہ خوف خدا ہے نہ خوف خدائی بشر دے رہا ہے بشر کی دہائی نہ جانے کہاں کھو گئی ہے مروت  بڑی دور تک تو مرے ساتھ آئی  نگاہوں کے اندر بدلے گئے ہیں  وہی ہے مگر رسم جلوہ نمائی کسی کے مہکتے ہوئے گیسوؤں میں  شگوفوں نے سیکھی ہے شعلہ نوائی فضائے مقدر بدل دی ہے ساغر  نظر جب کبھی زندگی سے ملائی 

ڈاکٹر وزیر آغا کون تھا ؟

 ڈاکٹر وزیر آغا وزیر کوٹ ضلع سرگودھا میں 18 مئی 1922 ء کو پیدا ہوئے ۔آپ کے آباؤاجداد کا تعلق ایران سے ہے آپ کے پردادا کاروبار کے سلسلے میں افغانستان آگئے ۔بعدازاں برطانوی دور حکومت میں لاہور اور پھر سرگودھا منتقل ہوگئے ۔ آپ نے 1943 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ۔اے اکنامکس کیا۔1956 میں " اردو ادب میں طنز ومزاح" کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا ۔جس پر پنجاب یونیورسٹی سے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی ۔ تصانیف تحقیق وتنقید ،اردو شاعری کا مزاج ،نظم جدید کی کروٹیں ،تنقید واحتساب ،تخلیقی عمل نئے مقالات ،نئے تناظر ،تصورات عشق وخرد ( اقبال کی نظر میں ) انشائیہ کے خدوخال ساختیات اور سائنس ،غالب کا ذوق تماشا ۔ شاعری : دن کا زردپہاڑ ،ادھی صدی کے سائے ،شام اور سائے ،نردبان ۔ انشائیہ: خیال پارے ،چوری سے یاری تک ،دوسرا کنارہ ،سمندر اگر میرے اندر گرے ،پگڑنڈی سے روڈ رولر تک ( انشائیوں کا کلیات ) ۔ خاکے شام دوستان آباد  ادارت 1940 میں ماہنامہ " ادبی دنیا " میں شریک ہوئے ۔ 1956 میں اپنا رسالہ اور اق جاری کیا جو تاحال شائع ہو رہا ہے  ۔

ساغر صدیقی نعت

 نہ ہوتا در محمد کا تو دیوانے کہاں جاتے خدا سے اپنے دل کی بات منوانے کہاں جاتے جنہیں عشق محمد نے کیا ادراک سے بالا  حقیقت ان تمناؤں کی سمجھانے کہاں جاتے خدا کا شکر ہے یہ حجرا اسود تک رسائی ہے  جنہیں کعبے سے نسبت ہے وہ بتخانے کہاں جاتے اگر آتی نہ خوشبوئے مدینہ میری آنکھوں سے  جو مرتے ہیں نہ جلتے ہیں وہ پروانے کہاں جاتے  سمٹ آئے مری آنکھوں میں حسن زندگی بن کر  شراب درد سے مخمور نذرانے کہاں جاتے چلو اچھا ہوا ہے نعت ساغر کام آئی ہے  غلامان نبی محشر میں پہچانے کہاں جاتے  

استعاره

 استعارہ جب کسی لفظ کو حقیقی معنوں کی بجائے غیر وضعی معنوں میں استعمال کریں اور حقیقی ومجازی معنوں میں تشبیہ کا علاقہ پایا جائے تو اسے استعارہ کہتے ہیں ۔ استعارہ میں ارکان تشبیہ کے نام بدل جاتے ہیں ۔اس لئے ان کو جاننا اور یاد رکھنا ضروری ہے ۔ مشبہ کو = مستعارلہ ،کہتے ہیں ، مشبہ بہ کو = مستعار منہ کہتے ہیں وجہ شبہ کو = وجہ جامع کہتے ہیں ۔ مستعار منہ کےلئے جو لفظ لایا جاتا ہے مستعار کہلاتا ہے ۔مثلا جب ہم شیر کا لفظ کسی بہادر آدمی کے لئے استعمال کرتے ہیں تو مردشجاع کی ذات مستعارلہ ہے ۔شیر مستعار منہ ہے ،شجاعت وجہ جامع ہے شجاع کا لفظ مستعار ہے ۔ جیسے مشبہ اور مشبہ بہ کو طرفین تشبیہ کہا جاتا ہے ۔اسی طرح مستعارلہ اور مستعار کو طرفین استعار کہتے ہیں ۔استعارہ میں مشبہ کی ذات کو عین مشبہ بہ بتایا جاتا ہے ( یا اس کے برعکس یعنی مشبہ بہ کو عین مشبہ ) اسلئے عموماً استعارہ میں مشبہ اور مشبہ بہ میں سے صرف ایک کا ذکر کرتے ہیں اور جو محذوف ہوتا ہے اس کے لوازم اور مناسب لائے جاتے ہیں تاکہ استعارہ مکمل ہو جائے ۔اسی لئے استعارہ کی اصلی خوبی یہ ہوتی ہے کہ طرفین استعار میں کامل قسم کی تشبیہ پائی جائے او...

تشبیہ

تشبیہ  تشبیہ کے معنی یہ ہیں کہ ایک چیز کسی خاص لحاظ سے کسی دوسری چیز کے مانند ظاہر کیا جائے ۔جیسے  کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا  تھا موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہوا     (   انیس )  یہاں اوس کے قطروں کو آب وتاب کی وجہ سے موتیوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔کسی تشبیہ میں پانچ چیزیں ہوتی ہیں ۔ مشبہ : وہ چیز جس کو تشبیہ دی جائے جیسے پہلی مثال میں اوس کے قطرے ۔ مشبہ بہ : وہ چیز جس سے تشبیہہ دی جائے ۔جیسے یہاں موتی ۔ حرف تشبیہ : وہ حرف ہے جو تشبیہ دینے کے لئے لایا جائے ۔جیسے مانند ،مثل ،چوں ،جیسا وغیرہ ( یہاں حرف تشبیہ محذوف ہے ) ۔ وجہ تشبیہ: وہ بات اور وہ معنی جو مشبہ اور مشبہ بہ میں مشترک ہوں ۔جیسے یہاں چمک دمک اور آب و تاب کہ یہ موتیوں میں بھی پائی جاتی ہے اور اوس کے قطروں میں بھی ( اس کو وجہ شبہ بھی کہتے ہیں )  غرض تشبیہ : وہ مقصد جس کےلئے کسی چیز کو تشبیہ دی جاتی ہے جیسے یہاں اوس کے قطروں کی  خوشنمائی اور دلفریبی ظاہر کرنے سے غرض ہے ۔( اسے غرض شبہ بھی کہتے ہیں ) ان پانچوں کو ارکان تشبیہ کہتے ہیں اور مشبہ اور مشبہ بہ طرفین تشبیہ ( یا اطراف...

ساغر صدیقی

Image
 ساغر صديقي اے حسن لالہ فام ! ذرا آنکھ تو ملا  خالی پڑے ہیں جام ! ذرا آنکھ تو ملا کہتے ہیں آنکھ آنکھ سے ملنا ہے بندگی  دنیا کے چھوڑ کام ! ذرا آنکھ تو ملا کیا وہ نہ آج آئیں گے تاروں کے ساتھ ساتھ تنہائیوں کی شام ! ذرا آنکھ تو ملا یہ جام , یہ سبو یہ تصور کی چاندنی  ساقی کہاں مدام ! ذرا آنکھ تو ملا ساقی مجھے بھی چاہیے اک جام آرزو کتنے لگیں گے دام ! ذرا آنکھ تو ملا پامال ہو نہ جائے ستاروں کی آبرو  اے میرے خوش خرام! ذرا آنکھ تو ملا ہیں راہ کہکشاں میں ازل سے کھڑے ہوئے  ساغر ترے غلام! ذرا آنکھ تو ملا 

کلام غالب

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا دل جگر تشنۂ فریاد آیا دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز پھر ترا وقت سفر یاد آیا سادگی ہائے تمنا،یعنی  پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا عذر واماندگی ،اے حسرت دل  نالہ کرتا تھا،جگر یاد آیا زندگی یوں ہی گزر ہی جاتی  کیوں ترا راہ گزر یاد آیا کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی ! گھر ترا خلد میں گر یاد آیا آہ ،وہ جرآت فریاد کہاں  دل سے تنگ آکے ،جگر یاد آیا پھر ترے کوچے کو جاتا ہے خیال دل گم گشتہ ،مگر یاد آیا کوئی ویرانی سی ویرانی ہے !  دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا میں نے مجنون پہ لڑکپن میں اسد  سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا